نئی دہلی،10؍فروری(ایس او نیوز؍ایجنسی) سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ 9 ریاستوں میں ہندئوں کو اقلیت کا درجہ دینے کے لئے مختلف ہائی کورٹس میں زیر التواء پٹیشن کوسپریم کورٹ میں ٹرانسفرکرنے کیلئے دائردرخواست پر4ہفتے میں جواب دے۔سپریم کورٹ میں ایک اپیل دائر کی گئی ہے جس میں اپیل کی گئی ہے کہ قومی کمیشن برائے اقلیتی ایکٹ کی دفعہ کو ختم کیا جائے جس کے تحت ملک میں اقلیت کا درجہ دیا جاتا ہے۔ یہ بھی درخواست کی گئی ہے کہ اگر اس قانون کو برقرار رکھا گیا ہے تو پھر 9 ریاستوں میں جہاں ہندو اقلیت میں ہیں انہیں ریاستی سطح پر اقلیت کا درجہ دیا جائے تاکہ انہیں اقلیت کا فائدہ مل سکے۔ تمام ریاستوں کے ہائی کورٹ میں زیر التواء عردارخواستوں کو سپریم کورٹ میں منتقل کرکے قومی کمیشن برائے اقلیتی ایکٹ 1992 کی شق کو چیلنج کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔
بی جے پی لیڈر اشوینی اپادھیہ کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ مرکزی حکومت نے اقلیتی ایکٹ کے سیکشن 2 (سی) کے تحت مسلم، عیسائیوں، سکھوں، بودھوں اور جینوں کو اقلیت قرار دیا ہے لیکن اس نے یہودی کو اقلیت قرار نہیں دیا ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ملک کی 9 ریاستوں میں ہندو اقلیت ہیں لیکن انہیں اقلیت کا فائدہ نہیں مل رہا ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ لداخ، میزورم، لکش دویپ، کشمیر، ناگالینڈ، میگھالیہ، اروناچل پردیش، پنجاب اور منی پور میں ہندو آبادی اقلیت میں ہے۔ درخواست گزار نے کہا کہ ان ریاستوں میں اقلیت ہونے کی وجہ سے ہندوؤں کو اقلیت کا فائدہ ملنا چاہئے، لیکن ان کا فائدہ ان ریاستوں کی اکثریت کو دیا جارہا ہے۔